آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے تینوں مراحل مکمل ہوگئے، جس کے دوران مسلم لیگ ن نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے 38 میں سے 24 نشستیں جیت لیں، جبکہ پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی۔
انتخابی نتائج کے مطابق عوام دست و بازو پارٹی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، جبکہ ایل اے 16 پر مسلم لیگ ن کے میر اکبر کو واضح برتری حاصل ہے۔ مذکورہ حلقے کے 186 میں سے 174 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ 12 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج تاخیر کا شکار ہیں۔
آزاد کشمیر انتخابات میں کئی بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 24 میں سے 20 سیاسی جماعتیں ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا۔
انتخابات میں آئی پی پی، مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، جموں کشمیر پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی کوئی نشست حاصل نہ کرسکیں۔
مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان بھی اپنی نشست کا دفاع نہ کرسکے اور انہیں 21 ہزار ووٹوں کے بڑے مارجن سے شکست ہوئی۔
آزاد کشمیر انتخابات: پونچھ اور پلندری میں 10 اگست کی پولنگ ملتوی
اسی طرح آئی پی پی کے صدر تنویر الیاس کو بھی دونوں حلقوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایل اے 15 باغ میں وہ صرف 1,200 ووٹ حاصل کرسکے۔
یوں آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں کئی اہم سیاسی شخصیات کی شکست نے انتخابی نتائج کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔
