اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران 2 ہزار 452 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی گئی، جبکہ سال کی پہلی ششماہی میں مجموعی ریکوری کا حجم 5 ہزار 414 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
نیب کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان، سندھ، پنجاب اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر 10 لاکھ 78 ہزار 283 ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق
- نیب سکھر نے سب سے زیادہ ریکوری کی، جہاں بورڈ آف ریونیو سندھ اور محکمہ جنگلات کے تعاون سے 8 لاکھ 53 ہزار 678 ایکڑ اراضی بازیاب کرائی گئی، جس کی مالیت 1.01 ٹریلین روپے بتائی گئی۔
- نیب بلوچستان نے کوسٹل ہائی وے، گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (GIEDA) اور ہنگول نیشنل پارک سمیت 2 لاکھ 9 ہزار 544 ایکڑ اراضی واگزار کرائی، جس کی مالیت 604.64 ارب روپے بتائی گئی۔
- نیب کراچی نے 11 ہزار 422 ایکڑ سرکاری زمین واپس حاصل کی، جس کی مالیت 467.11 ارب روپے بتائی گئی۔
- نیب لاہور نے 1 ہزار 909 ایکڑ اراضی بازیاب کرائی، جس کی مالیت 288.29 ارب روپے بتائی گئی۔
- نیب اسلام آباد/راولپنڈی نے سی ڈی اے کے 810 ایکڑ فلاحی پلاٹس واگزار کرائے، جن کی مالیت 66.63 ارب روپے بتائی گئی۔
- نیب ملتان نے 920 ایکڑ سرکاری اراضی بازیاب کرائی، جس کی مالیت 2.76 ارب روپے رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہاؤسنگ اور مالیاتی فراڈ کے مقدمات میں 24 ہزار 365 سے زائد متاثرین کو 42.303 ارب روپے مالیت کی رقوم اور اثاثے واپس دلائے گئے۔
کراچی میں نیب کی بڑی کارروائی، 350 ایکڑ قیمتی زمین واگزار
نیب کے مطابق ادارہ اب مکمل ای آفس اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خودکار نظام کی جانب منتقل ہو چکا ہے، جس کا مقصد مقدمات کی تیز رفتار اور مؤثر تحقیقات ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ تفتیشی افسران کی پیشہ ورانہ تربیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
نیب نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مارچ 2023 سے جون 2026 کے دوران مجموعی طور پر 16 ہزار 938 ارب روپے کی ریکوری کی گئی، اور ادارہ بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں اور ریاستی اثاثوں کی بازیابی کے لیے اپنی مہم جاری رکھے گا۔
