سابق مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ ملک کو موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے روایتی کردار سے آگے بڑھ کر ایک متبادل اور مؤثر قیادت کی ضرورت ہے جو قومی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کر سکے۔
موجودہ سیاسی نظام پر تنقید
اپنے بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت سیاسی صورتحال پیچیدہ ہے اور روایتی حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے کردار کو مؤثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق اس خلا کو پر کرنے کے لیے ایک نئی سوچ اور متبادل قیادت کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا حل صرف روایتی سیاسی کشمکش سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے وسیع تر قومی مکالمہ ناگزیر ہے۔
قومی مکالمے کی ضرورت پر زور
بیرسٹر سیف کے مطابق پاکستان میں سیاسی ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع پر پی ٹی آئی کے اندر تحفظات، رہنماؤں نے میرٹ پر سوالات اٹھا دیے
انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر سوچیں تو ملک کے بڑے مسائل پر پیش رفت ممکن ہے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی تقریب
انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ آج کراچی میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد کی جا رہی ہے، جس کا مقصد مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ اس نوعیت کے فورمز پر ذاتی اور سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر صرف عوامی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ ملک کو درپیش بحرانوں کا حل تلاش کیا جا سکے۔
سیاسی ہم آہنگی پر زور
انہوں نے مزید کہا کہ قومی مسائل کا حل صرف مذاکرات، مفاہمت اور سیاسی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔ ان کے مطابق جب تک تمام فریق ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتے، اس وقت تک سیاسی استحکام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بار بار پیدا ہونے والا سیاسی تناؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ جاتی اور سیاسی سطح پر مستقل مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
