متحدہ عرب امارات کے شہر Fujairah میں ایک ڈرون حملے کے بعد آئل انڈسٹریل علاقے میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں تین غیر ملکی شہری زخمی ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمی افراد کا تعلق بھارت سے ہے اور انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ فجیرہ کے پٹرولیم انڈسٹریل زون کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس سے مقامی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور صنعتی علاقے میں آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر ایک ڈرون کے ذریعے انجام دیا گیا، جس نے حساس تنصیبات کو متاثر کیا۔
دوسری جانب Iran اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، خاص طور پر Strait of Hormuz میں حالیہ پیش رفت کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اماراتی تیل بردار جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ میزائل فائر کیے جانے کی اطلاعات نے خطے میں تشویش کو بڑھا دیا ہے۔
ایران کا دعویٰ: جنگ کے دوران اسرائیلی ’ہرمیز 900‘ ڈرون تباہ اور ایک قبضے میں لے لیا گیا
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ اور اپریل کے دوران اسی نوعیت کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں ڈرون سرگرمیوں اور گرنے والے ملبے سے شہری و صنعتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق مختلف حملوں میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ایک واقعے میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک بھی ہوا تھا۔
ان مسلسل حملوں کے بعد بندرگاہی اور صنعتی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن نظام اور دیگر اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
