کراچی میں شدید گرمی قہر بن گئی؛ دو روز میں 15 افراد جاں بحق

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی میں جاری شدید گرمی کی لہر نے انسانی جانوں پر اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں، جہاں مختلف علاقوں سے مزید 9 افراد کی لاشیں ملنے کے بعد گزشتہ دو دنوں میں اموات کی تعداد 15 تک پہنچ گئی ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ان ہلاکتوں کی ممکنہ وجہ ہیٹ اسٹروک اور لو لگنا قرار دی جا رہی ہے۔

latest urdu news

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف مقامات سے ملنے والی لاشوں میں کئی افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں بزرگ اور درمیانی عمر کے شہری شامل ہیں۔ کچھ افراد کھلے مقامات یا سڑکوں کے قریب مردہ حالت میں پائے گئے، جبکہ ایک شخص نماز کے دوران گر کر جاں بحق ہو گیا۔ دیگر لاشوں کی شناخت اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

دوسری جانب شہر میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جو حالیہ برسوں کا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ سمندری ہوائیں بند ہونے اور بلوچستان سے آنے والی گرم ہواؤں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ ہوا میں نمی کی کمی کے باعث گرمی کی شدت میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

کراچی کے ترقیاتی منصوبے: بی آر ٹی ریڈ لائن ہر صورت مکمل ہوگی، شرجیل میمن

ماہرین موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں وقتی طور پر درجہ حرارت میں معمولی کمی آ سکتی ہے، تاہم 7 مئی سے سندھ کے مختلف علاقوں میں ایک اور ہیٹ ویو کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات دوبارہ شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

شہر میں شدید گرمی کے باعث معمولات زندگی بھی متاثر ہوئے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک کم ہو گئی ہے اور شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں باہر نکلنے سے اجتناب کیا جائے، سر کو ڈھانپ کر رکھا جائے اور پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے تاکہ ہیٹ اسٹروک سے بچا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter