ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے عام شہریوں کے گھریلو اخراجات پر مزید بوجھ پڑا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ دستاویز کے مطابق صرف ایک ہفتے کے اندر 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 200 روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مختلف شہروں میں قیمتوں میں اضافہ
اعدادوشمار کے مطابق حیدر آباد اور لاڑکانہ میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں سب سے زیادہ یعنی 200 روپے کا اضافہ ہوا۔ اسی طرح سرگودھا میں 190 روپے اور سکھر میں 160 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دیگر شہروں میں بھی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں ملتان میں 133 روپے 33 پیسے جبکہ کراچی اور خضدار میں تقریباً 100 روپے تک اضافہ شامل ہے۔
اسی طرح کوئٹہ میں 90 روپے، اسلام آباد میں 67 روپے، گوجرانوالا میں 66 روپے جبکہ راولپنڈی میں 40 روپے تک قیمت بڑھی۔
مختلف شہروں میں موجودہ قیمتیں
رپورٹ کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں شہروں کے درمیان واضح فرق بھی دیکھا گیا ہے۔ کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا سب سے مہنگا ہے، جہاں اس کی قیمت تقریباً 2,500 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے برعکس لاہور میں یہی تھیلا سب سے کم قیمت یعنی تقریباً 1,810 روپے میں دستیاب ہے۔
دیگر شہروں میں قیمتوں کی صورتحال کچھ یوں ہے:
کوئٹہ میں تقریباً 2,450 روپے، حیدر آباد میں 2,440 روپے، اسلام آباد میں 2,373 روپے اور پشاور میں تقریباً 2,350 روپے۔
اسی طرح بنوں اور خضدار میں قیمت 2,300 روپے تک ہے، جبکہ راولپنڈی میں 2,347 روپے اور فیصل آباد میں 2,250 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
سکھر اور لاڑکانہ میں قیمت تقریباً 2,200 روپے ہے، جبکہ سیالکوٹ، گوجرانوالا اور ملتان میں 2,133 روپے تک دیکھی گئی۔
مزید برآں بہاولپور میں 2,067 روپے جبکہ سرگودھا میں یہ قیمت تقریباً 2,000 روپے تک ہے۔
کراچی میں آٹے کی قیمتوں کا بحران: سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر
مہنگائی کے اثرات اور خدشات
آٹے جیسی بنیادی خوراک کی قیمت میں مسلسل اضافہ عام شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آٹے کی قیمت میں اضافہ مجموعی مہنگائی (inflation) پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ یہ روزمرہ استعمال کی بنیادی ضرورت ہے۔
موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر قیمتوں میں استحکام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے سماجی اور معاشی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
