ٹرمپ کا پاکستان سے متعلق مثبت بیان، خطے کی کشیدگی کم کرنے کا دعویٰ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ گفتگو میں پاکستان کے لیے نیک جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی قیادت، بشمول فیلڈ مارشل اور وزیراعظم، باصلاحیت اور قابلِ قدر شخصیات ہیں جنہیں وہ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

latest urdu news

ٹرمپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا بھر میں کئی تنازعات کو روکنے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ بھی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی اور جوہری تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، تاہم ان کی مداخلت سے صورتحال قابو میں آئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تنازعے کے دوران متعدد طیارے تباہ ہوئے اور حالات انتہائی سنگین ہو گئے تھے، لیکن ان کے بقول بروقت اقدامات نے بڑی تباہی کو روکا اور بے شمار انسانی جانیں بچانے میں مدد ملی۔

ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جاری تنازع جلد اپنے انجام کو پہنچے گا اور انہیں یقین ہے کہ کامیابی ان کا مقدر ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو براہِ راست رابطہ کر سکتا ہے اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کی ایران کو براہِ راست مذاکرات کی پیشکش، قیادت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر

ٹرمپ کے مطابق ایران کے اندر مختلف سوچ رکھنے والے عناصر موجود ہیں، جن میں کچھ بات چیت کے لیے تیار ہیں جبکہ کچھ سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا اور معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھائے گا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کا مسئلہ مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا اور اس پر خاص توجہ دی جائے گی۔ چین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے مکمل طور پر مایوس نہیں، تاہم مزید تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔

نیٹو کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے میں نیٹو نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کے مطابق جب صورتحال قابو میں آ گئی تو بعد میں کچھ ممالک کی جانب سے مدد کی پیشکش کی گئی، جسے انہوں نے غیر مؤثر قرار دیا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter