آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران نے اسرائیلی جہاز کی تحویل کی تصاویر جاری کر دیں

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

Iran نے Strait of Hormuz سے تحویل میں لیے گئے ایک اسرائیل سے منسلک جہاز کی تصاویر جاری کر دی ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

latest urdu news

ایرانی میڈیا کے مطابق Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) کی بحریہ نے حالیہ کارروائی کے دوران ایک شپنگ کمپنی سے وابستہ جہاز کو اپنے کنٹرول میں لیا۔ جاری کردہ تصاویر میں اس کارروائی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز بغیر اجازت آبنائے ہرمز میں داخل ہوا اور نیویگیشن سسٹم میں مبینہ طور پر رد و بدل کر کے خفیہ طور پر گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی بنیاد پر اسے روکا گیا اور قبضے میں لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ایک سے زائد جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں “MSC Francesca” نامی جہاز بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ United States اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں جہازوں کی پکڑ دھکڑ اور فائرنگ کے واقعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

قطری نشریاتی ادارے Al Jazeera کے مطابق ایران نے 22 اپریل کو دو غیر ملکی کنٹینر جہازوں کو بھی قبضے میں لیا تھا، جبکہ ایک اور جہاز پر فائرنگ کی گئی۔ اس سے قبل امریکا نے بھی ایک ایرانی جہاز کو روک لیا تھا، جسے ایران نے "سمندری قزاقی” قرار دیا تھا۔

آبنائے ہرمز فوری نہیں کھل سکتا، امریکی محکمہ دفاع کا کانگریس کو اعتراف

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر عملی کنٹرول کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان کشمکش جاری ہے، تاہم ایران اس گزرگاہ پر زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ایران نے پہلے صرف مخالف ممالک کے جہازوں پر پابندیاں عائد کی تھیں، لیکن بعد ازاں سختی بڑھاتے ہوئے دیگر غیر ملکی جہازوں کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک درجنوں ایرانی یا ایران سے منسلک جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا چکا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک اس کی تیل برآمدات پر عائد پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، اس اہم سمندری راستے پر مکمل آزادی ممکن نہیں ہوگی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter