چین کے صدر Xi Jinping نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تائیوان کی آزادی کو چین نہ تو تسلیم کرے گا اور نہ ہی اسے برداشت کیا جائے گا۔ انہوں نے اس معاملے کو چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اہم قرار دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیجنگ میں تائیوان کی اپوزیشن رہنما Cheng Li-wun سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال مکمل طور پر پُرامن نہیں، اس لیے امن کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
چینی صدر کا کہنا تھا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف بسنے والے لوگ دراصل ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور سب امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ باہمی ہم آہنگی اور اتحاد سے ہی ترقی ممکن ہے۔
اسرائیل کا نام لیے بغیر لبنان میں ہلاکتوں پر بھارت کی تشویش، مشرقِ وسطیٰ صورتحال پر ردعمل
انہوں نے مزید کہا کہ تائیوان کی آزادی خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور چین اسے کسی صورت قبول یا معاف نہیں کرے گا۔
اس موقع پر چینگ لی وُن نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے ایک جدید چینی معاشرے کی تعمیر ممکن ہے۔
