بھارت کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر پہلی بار باضابطہ مؤقف دیتے ہوئے Lebanon میں ہونے والی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم اپنے بیان میں کسی ملک کا براہِ راست نام نہیں لیا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Randhir Jaiswal نے کہا کہ لبنان میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان باعثِ تشویش ہے۔ ان کے مطابق تمام فریقین کو بین الاقوامی قوانین، ریاستی خودمختاری اور سلامتی کے اصولوں کا احترام کرنا چاہیے۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب داخلی سطح پر بھارتی حکومت پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر خاموشی اختیار کرنے کے حوالے سے تنقید بڑھ رہی تھی۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے رکن اور سینئر سیاستدان Shashi Tharoor نے خطے کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں Pakistan کا بطور ثالث سامنے آنا ایک اہم پیش رفت ہے جس پر نئی دہلی کو سنجیدہ اور مثبت ردعمل دینا چاہیے۔
مذہبی آزادی پر قدغنوں پر تشویش، بھارت کو “انتہائی تشویش کا حامل ملک” قرار دینے کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ بھارت کو خطے میں امن کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے، چاہے ان مذاکرات میں سہولت کاری کوئی بھی ملک کرے۔ ششی تھرور کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطے ایک عملی سیاسی حقیقت ہیں جو روایتی سفارتی ڈھانچے سے ہٹ کر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
