وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر 129 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 14 مارچ سے 4 اپریل کے دوران یہ سبسڈی دی گئی، جس کا مقصد مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت معیشت کی بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور خاص طور پر چھوٹے کسانوں کو بھی مختلف سبسڈی پروگرامز کے ذریعے سہارا دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری پالیسی پر عمل جاری ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور کئی ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
Muhammad Aurangzeb نے مزید بتایا کہ نجکاری کے عمل کے تحت 26 اداروں کو پرائیویٹائزیشن کمیشن کے حوالے کیا جا چکا ہے، جبکہ کچھ غیر فعال اداروں کو بند بھی کیا گیا ہے اور مزید اداروں کے بارے میں بھی فیصلے زیر غور ہیں، خاص طور پر جہاں بدعنوانی کے مسائل سامنے آئے۔
پٹرول سبسڈی محدود کرنے کا فیصلہ، ہر موٹر سائیکل مالک اہل نہیں ہوگا
انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں کمی کی گئی ہے اور ٹارگٹڈ سبسڈی کے نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ بڑی گاڑیوں سے متعلق ایک جامع پالیسی بھی تیار کی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق توانائی کا شعبہ انفراسٹرکچر کے مسائل سے دوچار ہے اور تیل و گیس کی درآمدی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس کے باوجود ملک کی درآمدات و برآمدات پر کوئی نمایاں منفی اثر نہیں پڑا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سفارتی سطح پر بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ معاشی موازنہ اور تعاون کا عمل جاری ہے۔
