ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک خط میں واضح کیا ہے کہ ایران کی عام امریکی شہریوں سے کوئی دشمنی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو عالمی سطح پر خطرہ بنا کر پیش کرنا نہ صرف تاریخی حقائق کے خلاف ہے بلکہ موجودہ حالات سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
اپنے پیغام میں ایرانی صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے خلاف منفی تاثر دراصل بڑی طاقتوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق اس بیانیے کے ذریعے اسلحہ کی صنعت کو فروغ دینے اور اہم عالمی منڈیوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے درحقیقت عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں، اور اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہتے بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے ایران کی تاریخی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے اور جدید تاریخ میں اس نے کبھی جارحیت یا تسلط پسندی کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ ان کے مطابق ایران نے ہمیشہ مسلط کی جانے والی جنگوں کا دفاعی انداز میں جواب دیا ہے۔
ایران دباؤ میں نہیں آئے گا، سخت دباؤ کا سخت جواب دیا جائے گا: مسعود پزشکیان
خط میں ایرانی صدر نے امریکہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکہ اس تنازع میں اسرائیل کے نمائندے کے طور پر شامل ہوا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل ایران کو خطرے کے طور پر پیش کر کے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔
مزید برآں، صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران نے ماضی میں مذاکرات اور معاہدوں کی پاسداری کی، جبکہ کشیدگی میں اضافہ اور معاہدوں سے دستبرداری کے فیصلے امریکی حکومت کی جانب سے کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض فیصلے بیرونی دباؤ یا دیگر ممالک کی خواہشات کے تحت کیے گئے۔
خط کے اختتام پر ایرانی صدر نے امریکی عوام کو دعوت دی کہ وہ یکطرفہ معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے خود حقائق جاننے کی کوشش کریں اور ان افراد سے بات کریں جو ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔
