پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے حکومت کے 40 ارب روپے مالیت کے سوشل میڈیا فائر وال منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مکمل ناکامی قرار دیا ہے۔ اپنے تازہ بیان میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ منصوبہ سیاسی مقاصد کے تحت تیار کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی ہدف سیاسی مخالفین، خصوصاً پی ٹی آئی، کی آن لائن سرگرمیوں کو محدود کرنا تھا۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ حکومتی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق فائر وال کی تنصیب اور آزمائش کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی رفتار متاثر ہوئی، جس سے آئی ٹی انڈسٹری، فری لانسرز اور ای کامرس سے وابستہ کاروبار شدید دباؤ کا شکار رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کے باعث ہزاروں نوجوانوں کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور کئی ہنر مند افراد بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کے اس دور میں ایسے اقدامات ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق آئی ٹی برآمدات میں اضافے کے دعووں کے برعکس، فائر وال جیسے اقدامات نے عالمی سطح پر پاکستان کے ٹیکنالوجی سیکٹر کے اعتماد کو مجروح کیا۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے حکومتی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 40 ارب روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا نظام مؤثر ثابت نہیں ہوا تو اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ سرمایہ کاری کی جائے گی، خواہ اس پر مزید خطیر رقم کیوں نہ خرچ کرنی پڑے۔
گورنر راج کی باتیں نئی نہیں، علی امین کے دور میں بھی چہ مگوئیاں ہوتی تھیں، شیخ وقاص اکرم
رانا ثنااللہ کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل تحفظ کے لیے جدید نظام اپنا رہے ہیں، لہٰذا پاکستان بھی اس حوالے سے پیچھے نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست کو درپیش آن لائن چیلنجز اور مبینہ ڈیجیٹل یلغار سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
یوں سوشل میڈیا فائر وال کا معاملہ سیاسی اور معاشی دونوں حوالوں سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے، جہاں ایک طرف اسے آزادی اظہار اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب حکومت اسے قومی سلامتی کا تقاضا قرار دے رہی ہے۔
