رحیم یار خان میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے جیل کی سختیوں، سیاسی جدوجہد اور اپنی جماعت کی تاریخ سے متعلق مختلف نکات پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں مشکلات اور دباؤ نئی بات نہیں، بلکہ یہ ایک طویل جدوجہد کا حصہ ہوتے ہیں۔
جیل اور سیاسی جدوجہد پر مؤقف
صدر نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو آزمائشوں کا سامنا حوصلے کے ساتھ کرنا چاہیے۔ ان کے بقول جیل کی صعوبتیں سیاست کا حصہ رہی ہیں اور ماضی میں بھی کئی رہنماؤں نے طویل قید کاٹی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان کی جماعت کی قیادت اور خاندان نے بھی قید و بند کی مشکلات برداشت کیں۔
بے نظیر بھٹو کی جدوجہد کا ذکر
خطاب کے دوران انہوں نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد کا تفصیل سے ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بیرونِ ملک سے پاکستان واپسی سے روکنے کا مشورہ دیا گیا تھا، مگر انہوں نے عوام سے کیے گئے وعدے کو ترجیح دی۔
صدر نے کہا کہ وہ ایک نڈر رہنما تھیں اور انہوں نے ہمیشہ عوامی سیاست کو اہمیت دی۔
بانی تحریک انصاف کو پیپلز پارٹی اور آصف زرداری سے سیکھنا چاہیے: فیاض الحسن چوہان
پارٹی قیادت اور سیاسی روایات
انہوں نے کہا کہ انہوں نے سیاست ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی قیادت سے سیکھی، جبکہ یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم بنانا پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔
اس موقع پر انہوں نے سرائیکی خطے کے عوام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مادری زبان سرائیکی ہے اور وہ اس خطے کی عزت کرتے ہیں۔
ذاتی تجربات اور ریاستی استحکام پر بات
صدر نے کہا کہ انہوں نے بچپن سے ہی مشکل حالات دیکھے اور کبھی دباؤ سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق پاکستان کو مضبوط رکھنے کے لیے سیاسی استحکام اور عوامی اتحاد ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا اور سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔
موجودہ سیاسی تناظر
خطاب میں صدر نے حالیہ سیاسی حالات پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ سیاسی کارکنوں کو صبر اور برداشت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ ان کے مطابق جمہوری نظام میں اختلاف رائے فطری ہے، مگر اداروں اور قانون کا احترام ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں جھکاؤ اور برداشت سے عزت میں اضافہ ہوتا ہے اور یہی رویہ جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے۔
