شمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل تجربہ، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

شمالی کوریا نے ایک بار پھر بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور جنوبی کوریا نے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جزیرہ نما کوریا میں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی حساس بنی ہوئی ہے۔

latest urdu news

میزائل تجربے کی تفصیلات

جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق میزائل شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی شہر سنپو کے قریب سے مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 10 منٹ پر فائر کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ میزائل تقریباً 140 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے۔

ابتدائی اطلاعات میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائر کیے گئے میزائل کس نوعیت کے تھے، تاہم سنپو کو ایک اہم فوجی مقام سمجھا جاتا ہے جہاں آبدوزوں اور آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے تجرباتی نظام موجود ہیں۔

تسلسل سے بڑھتے تجربات

رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے دوران یہ شمالی کوریا کا چوتھا جبکہ رواں سال کا ساتواں میزائل تجربہ ہے۔ اس تسلسل نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ بار بار ہونے والے تجربات خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا اور جاپان کا ردعمل

میزائل تجربے کے فوری بعد جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر بلیو ہاؤس نے ہنگامی سکیورٹی اجلاس طلب کیا۔ حکام نے ان تجربات کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

جنوبی کوریا میں ایف 16 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ محفوظ رہا

دوسری جانب جاپانی حکومت نے بھی تصدیق کی کہ میزائل جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں گرے، جس کے بعد وہاں بھی سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

عالمی تناظر

شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر طویل عرصے سے عالمی برادری کو تحفظات رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں کے تحت ایسے تجربات پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، تاہم پیانگ یانگ کی جانب سے وقتاً فوقتاً ان تجربات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اس طرح کے اقدامات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

شمالی کوریا کا حالیہ میزائل تجربہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں سکیورٹی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔ جنوبی کوریا اور دیگر علاقائی ممالک کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter