ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلد کوئی مثبت خبر سامنے آ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ کل ایک "سرپرائز” بھی دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آنے والے لمحات اہم ہو سکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہ پایا تو امریکی پابندیاں، خصوصاً ایرانی بندرگاہوں پر، برقرار رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ معاملات پر پیش رفت ہو چکی ہے اور ان کے خیال میں آئندہ اعلان ایک مثبت رخ اختیار کر سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ ایک اہم اور بااثر شخصیت وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والی ہے، جس کے بعد ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ایونٹ براہ راست ایران سے متعلق نہیں ہوگا، تاہم اس دوران اسی موضوع پر سوالات متوقع ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی مؤثر طریقے سے جاری ہے، جبکہ ایران کے ساتھ مختلف امور پر پہلے ہی کچھ اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف بیانات دے رہی ہے، تاہم وہ خود "واضح اور سیدھی بات” کر رہے ہیں۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے بقول مذاکرات جاری ہیں، مگر حتمی فیصلہ وہ خود کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ معاہدہ ہونے کی صورت میں ایران سے جوہری مواد امریکا منتقل کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
مزید برآں، ٹرمپ نے لبنان کے استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور بنیامین نیتن یاہو کو ایک اچھا شراکت دار قرار دیا، اگرچہ کچھ معاملات پر اختلافات کا بھی اعتراف کیا۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو کمرشل جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس اقدام کو سیز فائر سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو آبنائے کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔
