حکومت پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظام و آپریشن آؤٹ سورس کرنے کے منصوبے کو ختم کر دیا ہے، کیونکہ ابوظبی نے اس عمل میں مزید دلچسپی نہیں دکھائی۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب یو اے ای بار بار یاددہانی کے باوجود کسی ادارے کو نامزد کرنے میں ناکام رہا۔ حکومت پاکستان نے اسلام آباد ایئرپورٹ کو فعال نجکاری فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی حالیہ کامیاب نجکاری کے تناظر میں اس ایئرپورٹ کو نجکاری کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔
ابتدائی طور پر یو اے ای نے دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن کسی نامزد ادارے کا نام فراہم نہ کر سکا، اور حتمی یاددہانی کے جواب میں اس نے واضح کیا کہ وہ اس عمل کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس فیصلے کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کو کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کے ساتھ فعال نجکاری فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
نیو اسلام آباد ائیرپورٹ، حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک کمپنیوں کی نجکاری کے لیے کمیٹی قائم
حکومت نے پہلے یو اے ای کی درخواست کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا، جس میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی اور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کو جی ٹو جی فریم ورک کے تحت شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مذاکراتی کمیٹی نے متعدد مسودہ معاہدوں کا تبادلہ اور اعلیٰ سطحی وفد کے دورہ ابوظبی کے باوجود یو اے ای کی جانب سے مسلسل تاخیر کی وجہ سے آؤٹ سورسنگ کا عمل ممکن نہ ہو سکا۔
متعلقہ وزارت نے سفارش کی کہ یو اے ای کے ساتھ مجوزہ جی ٹو جی فریم ورک کے تحت اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا عمل بند کر دیا جائے اور ایئرپورٹ کو فعال نجکاری فہرست میں شامل کیا جائے تاکہ نجکاری کے عمل میں شفافیت اور تیزی لائی جا سکے۔
