تنخواہ دار طبقہ انکم ٹیکس دینے میں ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سے آگے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

تنخواہ دار طبقے نے 3 ماہ میں 144 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے وصولی 38 فیصد کم ہوگئی

ملک میں انکم ٹیکس کی وصولی کے حوالے سے ایک بار پھر تنخواہ دار طبقہ ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے آگے نکل گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تنخواہ دار افراد سے حاصل ہونے والا انکم ٹیکس ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ دونوں شعبوں کی مجموعی وصولی سے بھی زیادہ رہا۔

latest urdu news

ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے نے 3 ماہ کے دوران 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب روپے زیادہ ہے۔

رئیل اسٹیٹ سے ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی

ایف بی آر ذرائع کے مطابق رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے انکم ٹیکس وصولی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے انکم ٹیکس کی وصولی 38 فیصد کمی کے بعد 35.2 ارب روپے رہی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس شعبے سے ٹیکس وصولی تقریباً 22 ارب روپے کم ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ایڈوانس انکم ٹیکس میں کمی بھی اس کمی کی ایک اہم وجہ ہے۔

جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس شرح کم

ایف بی آر ذرائع کے مطابق حکومت نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد کمی کی۔

جائیداد فروخت کرنے پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کردی گئی، جبکہ جائیداد خریدنے پر ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی 42 فیصد کمی کے بعد 23 ارب روپے رہی، جبکہ جائیداد کی خریداری پر انکم ٹیکس کی وصولی 31 فیصد کمی سے 12.2 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔

انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر، توسیع کا کوئی امکان نہیں: ایف بی آر

ریٹیلرز اور ہول سیلرز نے کتنا ٹیکس دیا؟

ذرائع کے مطابق ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے 3 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 18.4 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق ہول سیلرز کی ٹیکس ادائیگی گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد کمی کے ساتھ 6.2 ارب روپے رہی۔

دوسری جانب ریٹیلرز کی جانب سے 11.3 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.3 فیصد زیادہ ہے۔

یوں ریٹیل سیکٹر کی ٹیکس ادائیگی میں اضافہ تو ہوا، تاہم مجموعی وصولی کے لحاظ سے یہ تنخواہ دار طبقے سے کہیں کم رہی۔

آئی ایم ایف پروگرام کے بعد تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس حصہ

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام سے قبل سالانہ ٹیکس وصولی میں تنخواہ دار طبقے کا حصہ 391 ارب روپے تھا، جو 2 سالہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد بڑھ کر 629 ارب روپے ہوگیا۔

بجٹ میں حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کے لیے 52 ارب روپے کے ریلیف کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں 3 فیصد تک کمی کی گئی۔

اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں ٹیکس وصولی کا دائرہ وسیع کرنے اور مختلف شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس کی وصولی میں اضافہ اور رئیل اسٹیٹ سے وصولی میں کمی نے ٹیکس نظام میں مختلف شعبوں کے حصے کے حوالے سے ایک بار پھر بحث کو نمایاں کردیا ہے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں