پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے بڑا جانی نقصان ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 21 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہوگئیں، جبکہ 40 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ حادثے کے بعد امدادی اداروں نے فوری کارروائی شروع کردی اور ملبے تلے دبے مزید بچوں اور اسکول کے عملے کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق واقعے میں متعدد بچے ملبے تلے دب گئے تھے، جنہیں نکالنے کے لیے امدادی کارکنوں نے کارروائیاں کیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ملبہ ہٹانے کا کام بھی جاری ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 22 لاشیں منتقل
لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اب تک 21 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی لاشیں اسپتال لائی جا چکی ہیں۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ 25 زخمی بچوں کو بھی طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ حادثے میں متاثرہ بچوں اور اسکول کے عملے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اسکول کی عمارت کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے تاکہ اگر کوئی بچہ یا عملے کا فرد اب بھی ملبے تلے موجود ہو تو اسے نکالا جا سکے۔
امدادی کارروائی کے دوران ملبے کو احتیاط سے ہٹایا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ طور پر دبے افراد تک پہنچا جا سکے۔ واقعے کی سنگینی کے پیش نظر ریسکیو آپریشن جاری رکھا گیا ہے۔
لاہور میں خستہ عمارت کی چھت گر گئی، 4 افراد جان کی بازی ہار گئے، 6 زخمی
چھت گرنے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم
ڈپٹی کمشنر پشاور کے مطابق حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ اسکول کی چھت کس وجہ سے گری اور آیا عمارت کی تعمیر یا دیکھ بھال میں کوئی غفلت ہوئی تھی۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حادثے کے اسباب اور ممکنہ ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا۔
اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت پر سوالات
اس افسوس ناک حادثے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت اور تعمیراتی معیار سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اسکولوں میں بڑی تعداد میں بچوں کی موجودگی کے باعث عمارتوں کی مضبوطی، باقاعدہ معائنہ اور حفاظتی انتظامات انتہائی اہم ہیں۔
فی الحال ریسکیو آپریشن اور زخمیوں کے علاج پر توجہ مرکوز ہے، جبکہ انکوائری کمیٹی حادثے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ملبے تلے دبے مزید افراد کی تلاش جاری ہے، اس لیے حتمی جانی نقصان میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
