شکرگڑھ، وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے ملکی مفادات کے بجائے سیاست کو فوقیت دی ہے۔
اپنے آبائی علاقے شکرگڑھ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے دیرینہ ساتھی ہیں، ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے بہادر جوانوں کی موجودگی میں کوئی دشمن پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، ہمارے مخالفین سی پیک اور بلوچستان میں معدنی ترقی کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، مگر ہم پہلے بھی 2013 میں اس سے زیادہ سنگین دہشت گردی کا خاتمہ کر چکے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 2018 میں ملک میں مکمل امن بحال ہو چکا تھا، لیکن پی ٹی آئی حکومت کی ناقص پالیسیوں نے دہشت گردوں کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع فراہم کیا، ایک سیاسی جماعت نے اپنے مفادات کو قومی مفادات پر فوقیت دی، جبکہ قومی معاملات میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں مکمل اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا، دہشت گردی کے حالیہ واقعے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے بھی ایک مضبوط قرارداد کے ذریعے اس حملے کی مذمت کی، جو سفارتی سطح پر پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اس معاملے کو پہلے بھی اٹھا چکا ہے، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں ہونے دے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکہ اور روس جیسے بڑے ممالک بھی دہشت گردی کے ایسے واقعات کے آگے بے بس دکھائی دیتے ہیں، مگر ہمارے سیکیورٹی اداروں نے فوری ردعمل دے کر اسے ناکام بنایا، جو ان کی بڑی کامیابی ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا وفد اپنا کام مکمل کر کے جا چکا ہے اور انہوں نے پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کیا، پاکستان کو سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی اور معاشی استحکام کے لیے گرینڈ الائنس کی ضرورت ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے4 سالہ دور حکومت میں پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا گیا، جس کے باعث ملک دنیا میں مذاق بن کر رہ گیا۔
