گوجرانوالا پولیس کی لیڈی کانسٹیبل کو لاہورکے نجی کالج میں مبینہ زیادتی کے واقعے کے حوالے سےویڈیو بنانے پر نوکری سے فارغ کردیا گیا ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گوجرانوالا میں لیڈی کانسٹیبل کی جانب سے لاہور کے نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے حوالے سے ویڈیوبنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔
انکوائری کے بعد الزام ثابت ہونے پر لیڈی کانسٹیبل کو نوکری سےفارغ کردیا گیا ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یونیفارم میں ویڈیو بنانا اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا کوڈ آف کنڈکٹ کی سخت خلاف ورزی ہے۔
ویڈیو بیان میں لیڈی کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ لاہور کالج میں جیسے واقعات روز پیش آتے ہیں، لیکن انہیں چھپا لیا جاتا ہے، یہ طلبا کی ہمت ہے کہ اس واقعےکوآن سکرین لارہے ہیں ، ہر بیٹی کو بندوق چلانا سکھائیں، ہر بیٹی کو اپنی حفاظت خود کرنی چاہیے ۔
دوسری جانب ،پاکستان کی سیاسی صورتحال میں سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وقت بل پر کوئی بڑا تنازعہ نہیں ہے اور پی ٹی آئی کے جواب کا انتظار ہے تاکہ وہ ووٹ دے سکیں۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے یہ بتایا کہ وہ پی ٹی آئی کو اس بل کے مختلف حصوں پر اپنے اعتراضات سے آگاہ کر چکے ہیںاور حکومت ان پر غور کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔
