چین نے ایک اور تاریخی انفراسٹرکچر سنگِ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کی طویل ترین ایکسپریس وے سرنگ کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔
یہ جدید سرنگ شن جیانگ کے خودمختار علاقے میں تیان شان شینگلِی سرنگ کے نام سے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے، جسے خطے میں رابطوں اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس سرنگ کی مجموعی لمبائی تقریباً 22.13 کلومیٹر ہے، جو چین کے شمال مغربی علاقے شن جیانگ میں تیان شان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے کے نیچے تعمیر کی گئی ہے۔ یہ دنیا کی سب سے طویل ایکسپریس وے ٹنل ہے جو براہِ راست ایکسپریس وے کے نیچے سے گزرتی ہے۔
تیان شان شینگلِی سرنگ میں دو الگ مواصلاتی سرنگیں شامل ہیں، جن میں ہر ایک میں دو دو لینز بنائی گئی ہیں۔ اس جدید ڈیزائن کے باعث ٹریفک کی رفتار تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک برقرار رکھی جا سکتی ہے، جو سفر کو محفوظ اور تیز تر بناتی ہے۔
چین میں بزرگ شہریوں کے لیے خصوصی سیاحتی ٹرین کا آغاز
اس سرنگ کی تعمیر سے قبل پہاڑی راستوں کے باعث شمالی اور جنوبی شن جیانگ کے درمیان سفر میں کئی گھنٹے لگ جاتے تھے، جبکہ اب یہی فاصلہ محض 20 منٹ میں طے کیا جا سکے گا۔ ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
یہ سرنگ ارومکی۔یولی ایکسپریس وے کا اہم حصہ ہے، جو شن جیانگ کے شمالی اور جنوبی شہروں کو ایک مضبوط اور براہِ راست رابطہ فراہم کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے عوامی سہولت میں اضافہ ہوگا اور تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، جس سے علاقائی معیشت کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔
چینی حکام کے مطابق یہ منصوبہ جدید انجینئرنگ، ماحول دوست تعمیر اور طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی کا عکاس ہے، جو مستقبل میں خطے کی معاشی و سماجی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
