چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن لیڈر پارلیمان کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے ارکان کو کمیٹیوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بھیجنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ اپوزیشن پر بھی پارلیمان کو مؤثر بنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اپوزیشن ارکان کمیٹیوں میں اپنا کردار ادا کریں، بلاول بھٹو
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر پارلیمان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے ارکان کو کمیٹیوں میں بٹھانا چاہیے تاکہ وہ قانون سازی اور دیگر اہم معاملات میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، تاہم اپوزیشن کو بھی پارلیمانی نظام میں فعال کردار ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
ان کے مطابق اپوزیشن ارکان کی کمیٹیوں میں عدم شرکت سے پارلیمان کمزور ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمان طاقتور ہوگا تو اس سے تمام سیاسی جماعتیں اور ارکان بھی مضبوط ہوں گے۔
فنانس کمیٹی میں عدم شرکت پر تنقید
بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کی جانب سے فنانس کمیٹی میں شرکت نہ کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹیوں میں اپوزیشن کی عدم موجودگی سے ایوان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے اپوزیشن سے درخواست کی کہ وہ اپنے پاس موجود پارلیمانی اختیار کو استعمال کرے اور اہم قومی معاملات پر بحث و مشاورت میں حصہ لے۔
ان کے بیان کے مطابق پارلیمانی کمیٹیاں وہ فورم ہیں جہاں قانون سازی اور حکومتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اپوزیشن ارکان کی شرکت سے ان معاملات پر مؤثر بحث اور مختلف سیاسی نقطہ نظر کو سامنے لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انتخابی اصلاحات کے لیے کمیٹی کا معاملہ
چیئرمین پیپلز پارٹی نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بھی اپوزیشن کی شرکت کو ضروری قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کی بات کی جاتی ہے، لیکن اگر اپوزیشن اس عمل میں شریک ہی نہ ہو تو ایسی کمیٹی بنانے کا فائدہ کیا ہوگا؟
بلاول بھٹو زرداری کے مطابق اپوزیشن کو اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے پارلیمانی عمل کا حصہ بننا چاہیے تاکہ انتخابی اصلاحات سمیت اہم معاملات پر بامعنی پیش رفت ہوسکے۔
ان کا خطاب اس بات پر مرکوز رہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں پارلیمانی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ کمیٹیوں میں واپس آکر قانون سازی اور قومی معاملات پر مشاورت میں اپنا کردار ادا کرے۔
