وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریت اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی شہریت سے متعلق معلومات طلب کرلیں، وزارتوں اور ڈویژنز کو بھی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریت سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ملازمین کو 90 روز کے اندر ڈیکلیریشن جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے اس مقصد کے لیے ایک مخصوص پرفارما بھی جاری کیا گیا ہے، جس کے ذریعے سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی شہریت اور سفری دستاویزات سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔ اس اقدام کے تحت وزارتوں اور ڈویژنز کو اپنے ماتحت افسران کی مطلوبہ تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ملازمین کو کون سی معلومات فراہم کرنا ہوں گی؟
جاری کردہ ہدایات کے مطابق سرکاری ملازمین کو اپنی غیر ملکی شہریت سے متعلق معلومات ڈیکلیریشن میں درج کرنا ہوں گی۔ اس کے علاوہ ان کے زیرِ کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
حکومت نے زیرِ کفالت افراد کے سفری دستاویزات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اس میں متعلقہ افراد کے پاس موجود سفری دستاویزات کی تفصیلات شامل ہوں گی، تاکہ مقررہ پرفارما کے ذریعے مطلوبہ ریکارڈ جمع کیا جا سکے۔
خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمین کی غیرملکیوں سے شادی کے لیے اجازت لازمی قرار
مزید برآں، سرکاری ملازمین کو غیر ملکی شہری سے شادی سے متعلق معلومات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ اس طرح جمع ہونے والی تفصیلات میں ملازم کی اپنی شہریت کے ساتھ اس کے زیرِ کفالت افراد کی شہریت اور سفری دستاویزات سے متعلق معلومات بھی شامل ہوں گی۔
وزارتوں اور ڈویژنز کو بھی ہدایات جاری
وفاقی حکومت نے وزارتوں اور ڈویژنز کو اپنے ماتحت افسران سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے اور انہیں مقررہ طریقہ کار کے مطابق جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ملازمین کو ڈیکلیریشن جمع کرانے کے لیے 90 روز کی مدت دی گئی ہے۔
اس اقدام کے تحت مختلف سرکاری محکموں سے معلومات ایک مقررہ فارمیٹ میں حاصل کی جائیں گی، جس سے متعلقہ ریکارڈ جمع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تفصیلات جمع ہونے کے بعد ان کی جانچ پڑتال کا طریقہ کار کیا ہوگا، معلومات فراہم نہ کرنے کی صورت میں کیا کارروائی کی جائے گی یا اس فیصلے کے تحت کن مخصوص ملازمین پر اضافی شرائط لاگو ہوں گی۔ ان امور سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے پر حکومتی فیصلے کے دائرہ کار کی وضاحت ہوسکے گی۔
