پانی ہماری ریڈلائن ہے، پاکستان کا پانی روکنا جنگی اقدام ہوگا: وزیراعظم شہباز شریف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ پاکستان اور مالدیپ نے تجارت، تعلیم، صحت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

latest urdu news

اسلام آباد میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے آبی حقوق پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ پانی پاکستان کی ریڈلائن ہے۔ ان کے مطابق ملک کے پانی کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا واضح مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا فیصلہ پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدوں پر عمل درآمد کرنا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف رکھتا ہے اور پانی کی فراہمی روکنے کی کسی بھی کوشش کو سنجیدگی سے لے گا۔

سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق ایک اہم معاہدہ ہے، جس پر 1960 میں عالمی بینک کی معاونت سے دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کے استعمال سے متعلق اصول طے کیے گئے۔

پاکستان کے لیے پانی زراعت، غذائی تحفظ، معیشت اور روزمرہ ضروریات کے حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق کسی بھی پیش رفت کو پاکستان میں خاص اہمیت دی جاتی ہے۔

پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات مختلف شعبوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ مالدیپ کے طلبہ کی بڑی تعداد پاکستانی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہے، جبکہ پاکستانی ڈاکٹرز اور معاون طبی عملہ مالدیپ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔

دہشت گردی پر خاموشی برداشت نہیں، پانی سر سے گزر چکا، اب فیصلے کا وقت ہے: وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان برادر ملک مالدیپ کی مزید ضروریات پوری کرنے میں تعاون پر خوشی محسوس کرے گا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان موجود دوستانہ تعلقات کو عملی تعاون میں تبدیل کرنا اہم ہے۔

فلسطین کے معاملے پر دونوں ممالک کی حمایت

وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطین کے مسئلے پر مالدیپ کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنے اصولی مؤقف کی حمایت جاری رکھے گا۔

پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اس معاملے پر پاکستان اور مالدیپ کے مؤقف میں ہم آہنگی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعاون کا اہم پہلو ہے۔

تجارت، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کا عزم

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال باہمی تعاون پر مبنی ہیں۔ انہوں نے تعلیم، صحت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

مالدیپ کے صدر کے مطابق پاکستان اور مالدیپ بزنس فورم کے ذریعے تجارتی اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام کے تحت وفود کے تبادلوں کو وسعت دینے پر بھی زور دیا گیا۔

ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل نظام اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان شعبوں میں تعاون سے دونوں ممالک کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔

پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ دونوں رہنماؤں کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک روایتی دوستانہ تعلقات کے ساتھ تجارت، تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں