جاپان نے مریخ کے چاند فوبوس سے چٹانوں اور مٹی کے نمونے جمع کرکے زمین پر لانے کے مقصد سے ایک اہم خلائی مشن روانہ کیا ہے۔ جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (JAXA) کا یہ مشن امریکی خلائی ادارے ناسا کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے سائنسدانوں کو مریخ کے چاندوں کی تشکیل، نظام شمسی کی تاریخ اور مستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کی تیاری کے حوالے سے اہم معلومات ملنے کی توقع ہے۔
مریخ کے دونوں چاندوں کا جائزہ لے گا مشن
مارشین مونز ایکسپلوریشن (MMX) نامی اس مشن کا مقصد مریخ کے دونوں چاندوں، فوبوس اور دیموس، کا تفصیلی مطالعہ کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت خلائی جہاز فوبوس کی سطح سے نمونے جمع کرے گا اور انہیں تحقیق کے لیے زمین پر واپس لائے گا۔
اگر یہ مشن کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو سائنسدانوں کو پہلی مرتبہ مریخ کے چاند سے حاصل کیے گئے نمونوں کا زمین پر جدید تجربہ گاہوں میں تفصیلی تجزیہ کرنے کا موقع ملے گا۔
ناسا کی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر نکی فاکس کے مطابق ان نمونوں سے مستقبل میں مریخ پر انسان بھیجنے کے مشنز کی منصوبہ بندی اور تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔
مریخ کے چاندوں کی تشکیل کا راز جاننے کی کوشش
سائنسدان طویل عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فوبوس اور دیموس کیسے وجود میں آئے۔ ان کی تشکیل کے بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں، جن میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ یہ چاند مریخ کی کشش ثقل میں آنے والے خلائی اجسام یا کسی بڑے تصادم کے نتیجے میں بننے والے ملبے سے وجود میں آئے ہوں۔
زمین کے چاند کی تشکیل کے بارے میں بھی ایک معروف نظریہ یہ ہے کہ ابتدائی دور میں زمین سے ایک بڑے خلائی جسم کے تصادم کے بعد خارج ہونے والا ملبہ زمین کے مدار میں جمع ہوا اور وقت کے ساتھ چاند بن گیا۔
امریکا نے یو ایف اوز اور خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ فائلیں عوام کے سامنے پیش کر دیں
فوبوس سے حاصل ہونے والے نمونوں کی کیمیائی اور معدنیاتی جانچ سے سائنسدانوں کو ان نظریات کا جائزہ لینے اور مریخ کے چاندوں کی اصل کے بارے میں مزید شواہد حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مستقبل میں مریخ کے سفر کے لیے اہم پیش رفت
اس مشن کا ایک اہم مقصد ایسی ٹیکنالوجی کی آزمائش بھی ہے جو مستقبل میں مریخ تک سفر کرنے اور وہاں سے واپس آنے کے منصوبوں میں کارآمد ہو سکتی ہے۔ مریخ کے گرد مدار میں داخل ہونا، اس کے چاند کی سطح کے قریب پہنچنا، نمونے جمع کرنا اور انہیں زمین تک پہنچانا پیچیدہ تکنیکی مراحل ہیں۔
مشن کے ذریعے حاصل ہونے والا تجربہ جاپانی اور امریکی سائنسدانوں کو مستقبل کے خلائی منصوبوں کے لیے بہتر تیاری کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
مشن کی واپسی کا مجوزہ شیڈول
JAXA کے فراہم کردہ شیڈول کے مطابق خلائی جہاز اگست 2027 میں مریخ کے مدار تک پہنچنے کا ہدف رکھتا ہے۔ منصوبے کے تحت اسے نومبر 2030 میں واپسی کا سفر شروع کرنا ہے، جبکہ نمونوں پر مشتمل کیپسول جولائی 2031 میں زمین پر پہنچنے کی توقع ہے۔
اس طرح مشن کی تکمیل میں تقریباً 5 سال لگ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ مدت طے شدہ منصوبے پر منحصر ہے اور خلائی سفر کے دوران پیش آنے والی تکنیکی مشکلات یا دیگر عوامل اس شیڈول کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مشن کی کامیابی سے مریخ کے چاندوں کی تاریخ سمجھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں انسانوں کو مریخ تک لے جانے اور بحفاظت واپس لانے کی کوششوں میں بھی اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔
