اسلام آباد: مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ گولڈ میڈلسٹ تھی، والد نے پلاٹ بیچ کر ایجنٹ کو رقم دی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں طالبہ لائبہ کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق لائبہ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی تھی اور وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا جانا چاہتی تھی، تاہم مبینہ طور پر بیرون ملک داخلے کے نام پر فراڈ کا شکار ہوگئی۔

latest urdu news

پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کردی ہے، جبکہ طالبہ کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی۔

امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب

اہلخانہ کے مطابق لائبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے ایک تعلیمی کنسلٹنٹ سے رابطہ کیا، جس نے مبینہ طور پر امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے عوض 70 لاکھ روپے طلب کیے۔

خاندان کا کہنا ہے کہ لائبہ نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس کی تعلیم گولڈ میڈل کے ساتھ مکمل کی تھی۔ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی تھی اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا اس کا خواب تھا۔

تاہم اہلخانہ کے مطابق جب داخلے کے لیے فراہم کیے گئے دستاویزات کی جانچ پڑتال کرائی گئی تو وہ جعلی نکلے۔ اس انکشاف کے بعد خاندان کو مبینہ فراڈ کا علم ہوا۔

دودھ فروخت کرکے بچوں کو پڑھانے والا والد

اہلخانہ کے مطابق لائبہ کے والد موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کرکے اپنے بچوں کی تعلیم اور گھر کے اخراجات پورے کرتے تھے۔ خاندان کرائے کے فلیٹ میں رہائش پذیر تھا، لیکن بیٹی کے روشن مستقبل کی امید میں والد نے اپنی جمع پونجی اور دستیاب وسائل اس کی تعلیم پر لگانے کا فیصلہ کیا۔

خاندان کا دعویٰ ہے کہ والد نے بیرون ملک تعلیم کے انتظامات کے لیے اپنا پلاٹ فروخت کیا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 21 لاکھ روپے نقد مبینہ ایجنٹ کو ادا کیے۔

بقیہ رقم کا بندوبست کرنے کے لیے لائبہ کی والدہ کے زیورات بھی بینک میں رکھوائے گئے۔ اہلخانہ کے مطابق یہ تمام کوششیں بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا بھیجنے کی امید میں کی گئی تھیں۔

اسلام آباد پولیس کے تمام افسران اور اہلکاروں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی

داخلے کے دستاویزات جعلی نکل آئے

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ لائبہ نے جب امریکی یونیورسٹی میں داخلے سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کرائی تو معلوم ہوا کہ فراہم کیے گئے کاغذات جعلی ہیں۔

اس انکشاف نے خاندان کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا۔ تاہم مبینہ فراڈ میں ملوث افراد کی شناخت، رقم کی مکمل تفصیلات اور دستاویزات تیار کرنے کے طریقہ کار سے متعلق حتمی حقائق پولیس کی تفتیش کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔

ماموں کو آخری پیغام میں کیا کہا؟

اہلخانہ کے مطابق لائبہ نے واقعے سے قبل اپنے ماموں کو ایک آخری پیغام بھیجا تھا، جس میں اس نے مبینہ فراڈ کا ذکر کرتے ہوئے درخواست کی کہ اس کے ساتھ پیش آنے والے معاملے کے بارے میں والد کو نہ بتایا جائے۔

پیغام میں لائبہ کے الفاظ تھے: ’’میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کا میرے والد کو نہ بتانا، وہ مر جائیں گے۔‘‘

یہ پیغام خاندان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا۔ تاہم اس پیغام اور واقعے کے درمیان تعلق سمیت تمام پہلوؤں کی تصدیق متعلقہ شواہد اور پولیس کی تفتیش سے ہونا ضروری ہے۔

پولیس کی تفتیش جاری، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار

پولیس کے مطابق اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود، سیکٹر جی 10 میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کے معاملے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول نہیں ہوئی، جس کے بعد ہی موت کی اصل وجہ کے بارے میں واضح معلومات سامنے آسکیں گی۔

واقعے میں مبینہ مالی فراڈ، تعلیمی دستاویزات کی جعل سازی اور رقم کی ادائیگی سے متعلق معاملات بھی اہم ہیں۔ ان پہلوؤں پر شواہد اکٹھے کرنے اور ذمہ دار افراد کا تعین کرنے کے لیے تفتیش ضروری ہے۔

یہ واقعہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ اور ان کے خاندانوں کو تعلیمی کنسلٹنٹس کے انتخاب اور یونیورسٹی میں داخلے کے دستاویزات کی تصدیق کی اہمیت بھی یاد دلاتا ہے۔ کسی بھی ایجنٹ کو بڑی رقم ادا کرنے سے پہلے متعلقہ یونیورسٹی سے براہ راست داخلے کی تصدیق اور تمام مالی معاملات کا تحریری ریکارڈ محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں