ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے پر کنٹرول ایران کے ہاتھ میں رہے گا اور اس حوالے سے فیصلے تہران ہی کرے گا۔
ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کسی حکم، سوشل میڈیا پوسٹ، طیارہ بردار بحری جہاز یا انتخابی تقریر کے ذریعے کسی کے قبضے میں نہیں آ سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اب تک خطے میں بھاری اور اسٹریٹجک ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز ایرانیوں کی تھی، ایرانیوں کی ہے اور ایرانیوں کی ہی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے کو بند کرنے یا کھولنے سے متعلق اختیار ایران کے پاس ہے۔
آبنائے ہرمز میں یونانی ایل این جی ٹینکر کو پراسرار واقعہ، کمپنی کا بیان سامنے آ گیا
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک امریکا اپنی مبینہ اسٹریٹجک شکست کو تسلیم نہیں کرتا اور اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہیں کرتا، ایران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے امریکی علاقہ قرار دینے کا عندیہ دیا تھا۔ ایرانی ردِعمل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
