ٹرمپ کا ایران سے جنگ پر محتاط مؤقف؛ طاقت کے ساتھ امن کی بات

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر Donald Trump نے ایک حالیہ خطاب میں کہا ہے کہ وہ جنگوں کے حامی نہیں اور خاص طور پر ایران کے ساتھ کسی تصادم کی حمایت نہیں کرتے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

latest urdu news

اپنی تقریر میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی عسکری صلاحیت کو خاصا کمزور کر دیا ہے، یہاں تک کہ اس کی دفاعی اور فضائی قوت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج خطے میں پوری طرح متحرک اور تیار ہیں، اور اگر ضرورت پڑی تو جدید ترین ہتھیاروں سمیت تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ جنگ سے گریز چاہتے ہیں، لیکن ایران کو ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کا وہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔ ان کے مطابق حالیہ حالات کے بعد ایران مذاکرات میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ نرمی دکھا رہا ہے۔

معاشی پہلو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، اور ان کے خیال میں اگر صورتحال بہتر ہوتی ہے تو پیٹرول کی قیمتیں مزید کم ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے امریکی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوطی پر بھی زور دیا۔

ٹرمپ کا بیان: ایران سے جنگ بندی میں توسیع غیر ضروری ہو سکتی ہے

مزید برآں، انہوں نے اپنے متوقع دورہ چین کو اہم قرار دیتے ہوئے Xi Jinping سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ ساتھ ہی انہوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا کی برتری کا ذکر کیا اور عدالت عظمیٰ کے ٹیرف سے متعلق فیصلے پر تنقید بھی کی۔

خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا خطے میں اپنی فوجی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter