ایک امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع اب ایک “نئی سرد جنگ” کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جس میں براہِ راست جنگ کے بجائے مالی پابندیاں، محدود عسکری کارروائیاں اور سفارتی دباؤ ایک ساتھ جاری ہیں۔
کشیدہ تعطل اور عالمی خدشات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال فوری طور پر حل ہوتی دکھائی نہیں دیتی، جس کے باعث توانائی کی عالمی قیمتوں میں آئندہ کئی ماہ تک اضافہ متوقع ہے۔
مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کشیدگی کے دوران کسی بھی وقت مکمل جنگ کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے، جس سے عالمی معیشت غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔
امریکی حکام کے خدشات
متعدد امریکی حکام کے مطابق خدشہ یہ ہے کہ امریکا ایک ایسے طویل تنازع میں پھنس سکتا ہے جس میں نہ مکمل جنگ ہو اور نہ ہی کوئی واضح سفارتی معاہدہ۔
اس صورتحال میں امریکا کو خطے میں اپنے فوجی دستے طویل مدت تک برقرار رکھنے پڑ سکتے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی
رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت دو مختلف حکمت عملیوں کے درمیان تذبذب کا شکار ہیں:
- ایک طرف ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی
- دوسری طرف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی اقتصادی پابندیاں
ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ ایران صرف طاقت کے ذریعے ہی مذاکرات کی طرف آ سکتا ہے، تاہم ان کی ٹیم میں اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی درخواست؟ ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ
آبنائے ہرمز اور معاشی دباؤ
امریکی حکام کے مطابق بعض مشیروں کی رائے ہے کہ فی الحال آبنائے ہرمز پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور ایران پر اقتصادی پابندیاں مزید سخت کی جائیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ پابندیاں ایران کی تیل برآمدات کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے اس کی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی ایران کو فوری طور پر رعایت دینے پر مجبور نہیں کرے گی۔
سفارتی پیش رفت اور تعطل
ذرائع کے مطابق حالیہ اجلاس میں ایران کی ایک تجویز پر بھی غور کیا گیا، جس میں آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے امریکی پابندیاں نرم کرنے کی بات شامل تھی۔ تاہم اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
امریکی صدر کی جانب سے واضح مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جب تک ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات پر کوئی معاہدہ نہیں کرتا، اس وقت تک پابندیاں ختم نہیں کی جائیں گی۔
مجموعی صورتحال
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان یہ تعطل اب ایک طویل المدتی جغرافیائی سیاسی بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی اور معیشت پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
فی الحال صورتحال جمود کا شکار ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے اگلے قدم کے منتظر ہیں، اور یہی غیر یقینی کیفیت عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔
