ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم سے متعلق مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹ میں روسی میڈیا نے کئی ایسے دعوے کیے ہیں جن میں جنگ کے دوران ہونے والے مبینہ واقعات اور ان کے اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق موجود نہیں۔
امریکی طیاروں کے ملبے کی نمائش کا دعویٰ
روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر جنگ کے دوران تباہ ہونے والے امریکی لڑاکا طیاروں کے ملبے کو ٹرکوں پر لاد کر عوامی سطح پر نمائش کے لیے پیش کیا۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان ٹرکوں پر ایرانی پرچم بھی لہرایا گیا اور بعض بینرز آویزاں کیے گئے جن پر ایرانی قیادت کی تصاویر شامل تھیں۔
ان دعوؤں کے مطابق اس نمائش کا مقصد امریکا کے خلاف “فتح” اور ایرانی فوجی کامیابی کو ظاہر کرنا تھا، تاہم ان مناظر کی آزاد تصدیق موجود نہیں ہے۔
امریکا اور ایران کے دعووں کا تضاد
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ماضی میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ دوسری جانب روسی میڈیا یہ مؤقف پیش کرتا ہے کہ ایران نے نہ صرف دفاعی حکمت عملی اپنائی بلکہ بعض کارروائیوں میں امریکی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا۔
وزیراعظم اور ایرانی وزیرِ خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، خطے کی صورتحال زیرِ بحث
مبینہ حملے اور عسکری کارروائیاں
روسی میڈیا کے مطابق بعض امریکی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے پرانے ایف-5 لڑاکا طیاروں کو محدود حملوں کے لیے استعمال کیا اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ان دعووں کی تفصیلات اور آزاد تصدیق واضح نہیں ہے۔
میڈیا، سیاست اور معلوماتی جنگ
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض امریکی حکام پر تنصیبات کے نقصانات کی تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر نہ کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، جس سے سیاسی حلقوں میں بحث پیدا ہوئی ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال ایک ایسے بیانیاتی تنازع کو ظاہر کرتی ہے جس میں مختلف ممالک اور میڈیا ادارے اپنے اپنے مؤقف کے مطابق واقعات کی تشریح پیش کرتے ہیں، جبکہ حقیقی زمینی حقائق پر اب بھی کئی سوالات برقرار ہیں۔
