یورپی خطے میں معاشی صورتحال ایک اہم تبدیلی کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں Italy رواں سال کے اختتام تک ممکنہ طور پر یورو زون کا سب سے زیادہ مقروض ملک بن سکتا ہے، جبکہ Greece اس فہرست میں اپنی طویل عرصے سے قائم سرفہرست پوزیشن کھو سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق یونان کا قرض اس کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً 137 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ سال 145.9 فیصد تھا۔ اس کے برعکس اٹلی کا قرض بڑھ کر 138.6 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کے بعد وہ یونان سے آگے نکل سکتا ہے۔
یونانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی مالی حالت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے اور یہ پیش رفت مالیاتی اصلاحات اور معاشی بحالی کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں یونان نے اپنے قرضوں میں نمایاں کمی کی ہے، جو 2020 میں 200 فیصد سے زائد کی بلند سطح پر پہنچ گیا تھا۔
دوسری جانب اٹلی کو قرضوں میں کمی کے معاملے میں سست پیش رفت کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم Giorgia Meloni کے مطابق ماضی میں تعمیراتی شعبے کو دی گئی مراعات نے حکومتی مالی دباؤ میں اضافہ کیا، جس کے باعث قرض کم کرنے کی رفتار متاثر ہوئی۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر لندن میں اہم فوجی کانفرنس شروع
معاشی کارکردگی کے لحاظ سے بھی دونوں ممالک کے درمیان واضح فرق سامنے آیا ہے۔ یونان کی معیشت حالیہ برسوں میں دو فیصد سے زائد کی رفتار سے ترقی کر رہی ہے، جس میں سرمایہ کاری، سیاحت اور مقامی طلب نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے مقابلے میں اٹلی کی معاشی ترقی سست رہی ہے اور گزشتہ چند برسوں میں اس کی شرح نمو ایک فیصد سے بھی کم رہی۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی یوروزون کے معاشی رجحانات میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں یونان بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ اٹلی کو بڑھتے قرض اور کمزور معاشی نمو جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
