آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی ہونی چاہیے، یو اے ای کا مؤقف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر کھلا رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم سمندری راستے پر کسی ایک ملک کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث اس گزرگاہ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

latest urdu news

بین الاقوامی گزرگاہ کی حیثیت

واشنگٹن میں ایک بین الاقوامی معاشی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اماراتی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی گزرگاہ ہے اور اسے تمام ممالک کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسی آبی گذرگاہیں عالمی مفاد کا حصہ ہوتی ہیں اور ان پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری مناسب نہیں۔

عالمی توانائی سپلائی میں اہم کردار

ریم الہاشمی نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی اسی گزرگاہ سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی بندش یا غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ راستہ صرف تیل ہی نہیں بلکہ دیگر اہم اشیاء کی ترسیل کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کا کھلا رہنا عالمی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان، امریکا پر خلاف ورزیوں کا الزام

علاقائی کشیدگی اور یو اے ای کا ردعمل

ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اماراتی وزیر نے کہا کہ ان کی ریاست نے ہمیشہ استحکام اور محفوظ ماحول کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق یو اے ای نے ایک ایسا طرز زندگی اپنایا ہے جو نہ صرف معاشی خوشحالی بلکہ سکیورٹی کو بھی یقینی بناتا ہے، اور یہ ملک کی قیادت اور عوامی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکا کے ساتھ اقتصادی شراکت داری

ریم الہاشمی نے امریکا کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق یو اے ای پہلے ہی امریکی معیشت میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے، جبکہ آئندہ 10 سال میں مزید 1.4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باوجود امریکا اور یو اے ای کے تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اقتصادی اور سفارتی روابط کی نشاندہی کرتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا یہ مؤقف عالمی سطح پر اس بحث کو تقویت دیتا ہے کہ اہم سمندری راستوں کو کھلا اور محفوظ رکھنا مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر، اس پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری کے بجائے بین الاقوامی تعاون اور آزادانہ رسائی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter