بنگلادیش میں 2024 کی عوامی تحریک کے بعد منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں آج پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان انتخابات کو ملک کی سیاسی تاریخ کا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلا عوامی امتحان ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں قائم ہزاروں پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ کا سلسلہ جمعرات بھر جاری رہے گا جبکہ ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج جمعہ تک سامنے آنے کی توقع ہے۔
سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو حساس اور اہم پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکام کے مطابق انتخابی عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
یورپی یونین، دولتِ مشترکہ اور دیگر عالمی اداروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 بین الاقوامی مبصرین اور صحافی انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ ووٹنگ کے طریقہ کار، سیکیورٹی صورتحال اور نتائج کے اعلان کے مراحل کا جائزہ لیں گے تاکہ انتخابی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ انتخابات ایک اہم سیاسی پس منظر میں ہو رہے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ 2024 میں طویل احتجاجی تحریک کے بعد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئی تھیں۔ ان کی جماعت کو اس بار انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے سیاسی منظرنامہ نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔
بنگلہ دیش میں 2026 میں عام انتخابات کرانے کا اعلان، عبوری حکومت کی یقین دہانی
بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان کو وزارتِ عظمیٰ کا مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں اور طویل خودساختہ جلاوطنی کے بعد حال ہی میں وطن واپس آئے ہیں۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران جمہوری اداروں کی بحالی، قانون کی حکمرانی کے فروغ اور معاشی اصلاحات کے وعدے کیے ہیں۔
دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی سیاسی میدان میں سرگرم ہے۔ اگرچہ ماضی میں اس جماعت پر پابندی عائد رہی، تاہم حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد اس کا اثر و رسوخ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ کچھ حلقوں، خاص طور پر خواتین اور مذہبی و نسلی اقلیتوں میں، اس اتحاد کی ممکنہ کامیابی کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ انتخابات نہ صرف نئی حکومت کے قیام کا ذریعہ بنیں گے بلکہ بنگلادیش کے جمہوری مستقبل کی سمت کا تعین بھی کریں گے۔
