اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل کمرشل اینڈ کلیرنگ اینڈ انفارمیشن اتھارٹی (NCCIA) کو ملازمین کو مستقل کرنے کے فیصلے سے متعلق 30 روز میں فیصلہ کرنے کی مہلت دے دی ہے۔ یہ حکم جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں سنی جانے والی سماعت کے دوران دیا گیا۔
عدالت میں سماعت اور ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے NCCIA کے فیز تھری کے سیکڑوں ملازمین کی مستقل کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی، جس میں NCCIA کے ڈائریکٹر ایڈمن اور لیگل ڈیپارٹمنٹ کے افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ توقع ہے کہ ایک ماہ کے اندر رولز بنا کر عدالتی حکم کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔ عدالت نے دلچسپ انداز میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “نیا ادارہ بنا تھا، لگتا ہے اسے کسی کی نظر لگ گئی ہے۔”
عدالت نے مزید ہدایت کی کہ جب تک معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، ملازمین سے متعلق کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جس سے ان کے حقوق یا ملازمت متاثر ہو۔
مستقلی میں تاخیر کی وجوہات
سماعت کے دوران جسٹس کیانی نے استفسار کیا کہ ملازمین کی مستقلی کا فیصلہ ابھی تک کیوں نہیں ہو سکا۔ NCCIA کے حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اپائنٹمنٹ، پروموشن اور ٹرانسفر (APT) رولز کابینہ کو بھیجے گئے ہیں، لیکن تاحال کابینہ سے منظوری نہیں ملی۔ اسی وجہ سے ملازمین کی مستقل کرنے کا معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔ عدالت نے اس تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کو 30 روز کی مہلت دی تاکہ رولز کی منظوری کے بعد مستقل کرنے کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
این سی سی آئی اے کے 4 افسران کے استعفے منظور: سرفراز چوہدری بھی شامل
آئندہ کارروائی اور ہدایت
عدالت نے واضح کیا کہ اگر 30 روز کی مہلت کے بعد بھی کارروائی میں تاخیر ہوئی تو متعلقہ سیکریٹریز کو بلا کر تاخیر کی وجہ معلوم کی جائے گی۔ سماعت کے اختتام پر عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی۔
یہ فیصلہ ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور ادارے میں شفافیت کے قیام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ مستقل ملازمت نہ صرف ملازمین کے مالی و پیشہ ورانہ استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ ادارے کی کارکردگی اور قانونی عملداری کے لیے بھی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
