284
خیبر: طورخم سرحد پر کشیدگی کے باعث تجارتی راستہ آج مسلسل 23 ویں روز بھی بند ہے۔
کسٹم حکام کے مطابق، سرحدی تجارتی گزرگاہ کے ساتھ ساتھ پیدل آمدورفت بھی معطل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی راستے کی بندش کی وجہ سے روزانہ تقریباً 30 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
دوسری جانب، جرگہ ممبر کے مطابق پاک افغان جرگہ کی کوششوں سے فائر بندی کا معاہدہ قائم ہے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے افغان قیادت سے رابطے جاری ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راہداری طورخم تین ہفتوں سے زائد عرصے سے کشیدگی کے باعث بند ہے، جس کے نتیجے میں پاک افغان شاہراہ پر سامان سے بھری گاڑیاں مختلف مقامات پر رکی ہوئی ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارتی حجم اڑھائی ارب ڈالر سے کم ہو کر ڈیڑھ ارب ڈالر تک آ چکا ہے۔
