عالمی ماہرین کے مطابق ایران جنگ سے امریکہ کو روزانہ تقریباً دو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ براؤن یونیورسٹی کے جنگی لاگت کے منصوبے کی ڈائریکٹر سٹیفنی سیویل نے کہا کہ ہتھیاروں اور فوجی اخراجات، امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر اخراجات کی مد میں امریکیوں کو پہلے ہی دسیوں ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون نے مارچ کے آغاز میں کانگریس کو بتایا تھا کہ جنگ کے پہلے چھ دنوں میں 11.3 ارب ڈالر لاگت آئی، تاہم سٹیفنی سیویل کا کہنا ہے کہ حقیقت میں یہ لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ لنڈا بلائمز کے مطابق جنگ پر پہلے ہی ممکنہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر دو ارب ڈالر لاگت آ رہی ہے۔
ایران جنگ کے خاتمے پر آمادہ، مگر مستقل امن کی ضمانت کا مطالبہ
سیویل نے مزید کہا کہ جنگی اخراجات کا بوجھ ہمیشہ اوسط امریکی پر پڑتا ہے، جبکہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، کاروبار میں غیر یقینی صورتحال اور انشورنس کی لاگت میں اضافہ جیسے طویل مدتی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ایران میں جنگ کے لیے مزید 200 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
