امریکا ہی وہ طاقت ہے جس سے روس اور چین خائف ہیں: صدر ٹرمپ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سیاست اور نیٹو اتحاد سے متعلق سخت بیانات دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا واحد ملک ہے جس سے روس اور چین دونوں خوفزدہ ہیں اور اسی امریکا کی وجہ سے نیٹو ایک مؤثر اتحاد کے طور پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نیٹو کا حصہ نہ ہوتا تو روس اور چین اس اتحاد کو کوئی اہمیت نہ دیتے اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا خوف محسوس کرتے۔

latest urdu news

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے بغیر نیٹو کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کے مطابق وہ واحد قوم جس کا روس اور چین احترام کرتے ہیں اور جس سے وہ خائف رہتے ہیں، وہ ان کا “دوبارہ مضبوط کیا ہوا امریکا” ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت کو عالمی امن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی قیادت میں متعدد بڑے تنازعات کو ختم کروایا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں ختم کروائیں اور اس عمل کے ذریعے لاکھوں انسانی جانیں بچائیں۔ انہوں نے ناروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ناروے نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد نہیں کر سکا، تاہم انہیں اس پر کوئی افسوس نہیں۔ ان کے بقول اصل اہمیت ان اقدامات کی ہے جن سے دنیا میں امن قائم ہوا اور قیمتی جانیں محفوظ رہیں۔

امریکی صدر نے نیٹو کے رکن ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل نیٹو کے بیشتر ممالک اپنے دفاعی اخراجات سے متعلق وعدے پورے نہیں کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اتحادی ممالک کو مجبور کیا کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے کم از کم پانچ فیصد تک بڑھائیں، جس کے بعد اب یہ ممالک فوری طور پر اپنی ادائیگیاں کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ گرین لینڈ پر حملے کے بجائے خریداری کے خواہاں، مارکو روبیو

ٹرمپ نے اس بات پر بھی شکوک کا اظہار کیا کہ اگر امریکا کو کبھی ضرورت پیش آئی تو آیا نیٹو ممالک اس کی مدد کے لیے کھڑے ہوں گے یا نہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ نیٹو کے ساتھ کھڑے رہیں گے، چاہے نیٹو ان کے لیے کھڑا ہو یا نہ ہو۔

صدر ٹرمپ نے یوکرین جنگ سے متعلق بھی دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے مداخلت نہ کی ہوتی تو اس وقت روس پورے یوکرین پر قبضہ جما چکا ہوتا۔ ان کے مطابق ان کی پالیسیوں اور دباؤ کی وجہ سے روس کو آگے بڑھنے سے روکا گیا۔ ٹرمپ کے ان بیانات نے ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے کہ نیٹو میں امریکا کا کردار کتنا فیصلہ کن اور ناگزیر ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter