امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ پر کسی قسم کی فوجی کارروائی کے بجائے اسے خریدنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات امریکی کانگریس کے ارکان کو دی گئی ایک اہم بریفنگ کے دوران بتائی، جس میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔
امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی معاونین کو ہدایت دی ہے کہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے ایک نیا، عملی اور قابلِ عمل منصوبہ تیار کیا جائے۔ مارکو روبیو نے یہ بریفنگ کانگریس کے دونوں ایوانوں کی مسلح سروسز اور خارجہ پالیسی کمیٹیوں کے ارکان کو دی، جہاں اگرچہ مرکزی موضوع وینزویلا سے متعلق امریکی پالیسی تھا، تاہم گرین لینڈ کے معاملے نے بھی نمایاں توجہ حاصل کی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس کے متعدد ارکان نے صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر کے حالیہ جارحانہ بیانات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان ارکان کا خیال تھا کہ ایسے بیانات عالمی سطح پر امریکا کی سفارتی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر مارکو روبیو نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ کا جھکاؤ فوجی اقدام کے بجائے سفارتی اور معاشی راستے کی طرف ہے۔
تاہم وزیرِ خارجہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ گرین لینڈ کو “خریدنے” سے ان کی مراد کیا ہے، یا اس منصوبے کی عملی شکل کیا ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں ڈنمارک کے ساتھ کسی مالی معاہدے، طویل المدتی لیز یا آزادانہ وابستگی جیسے آپشنز شامل ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے ملٹری آپشنز پر غور کر رہے ہیں
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران بھی گرین لینڈ کے حصول میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں، جس پر اس وقت ڈنمارک اور نیٹو اتحادیوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔ اس کے باوجود وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ امریکا کے لیے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی روسی اور چینی سرگرمیوں کے تناظر میں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اگرچہ خریداری کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاہم گرین لینڈ کے حصول کے لیے ملٹری آپشن پر غور بھی کیا جا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنا امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ترجیح ہے، اور وہ اس معاملے کو کسی صورت نظرانداز نہیں کرنا چاہتے۔
