امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق ایسا فیصلہ کیا جائے گا جس سے نیٹو بھی خوش ہوگا اور امریکا کے مفادات بھی محفوظ رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے گا۔
ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے نیٹو کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نیٹو کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ اتحاد اتنا مضبوط نہ رہتا۔ ان کے مطابق نیٹو کے لیے جتنا کام انہوں نے کیا ہے، اتنا کسی اور صدر یا رہنما نے نہیں کیا۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ اگر انہوں نے نیٹو کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو آج یہ اتحاد تاریخ کا حصہ بن چکا ہوتا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ نیٹو کی موجودگی اور طاقت میں امریکا کا مرکزی کردار ہے، اور یہی وجہ ہے کہ امریکا کے بغیر نیٹو مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ان کی پالیسیوں کے باعث نیٹو کو استحکام ملا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہیں سابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔
امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع
ٹیرف سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ سپریم کورٹ ٹیرف کے بارے میں کیا فیصلہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ کیس ہار گئی تو سیکڑوں ارب ڈالر کے ٹیرف واپس کرنا پڑ سکتے ہیں۔ تاہم ان کا مؤقف تھا کہ ٹیرف قانونی طور پر نافذ کیے گئے تھے اور ان کی وصولی واپس کرنا عملی طور پر آسان نہیں ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیرف پالیسی امریکا کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی اور اس کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔
