امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا سے 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا خام تیل امریکا منتقل کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ یہ تیل امریکا میں مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا، اور اس کی آمدنی کو امریکی حکومت خود کنٹرول کرے گی تاکہ اسے امریکی اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے انرجی سیکرٹری کرس رائٹ کو ہدایت دی کہ وہ اس منصوبے پر فوری طور پر کام شروع کریں اور تیل کو امریکی بندرگاہوں پر پہنچانے کے انتظامات کریں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے دسمبر کے وسط سے وینزویلا کے تیل کی درآمدات کو معطل کر رکھا تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکا اور وینزویلا کے حکام کے درمیان خام تیل کی برآمدات کے سلسلے میں بات چیت ہوئی تھی، اور معاہدے کے تحت وینزویلا کا خام تیل امریکا کی ریفائنریز کو پہنچایا جائے گا۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے توانائی شعبے میں تعلقات میں نئی روح پھونکنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
امریکی شہریوں کی بڑی تعداد وینزویلا پر امریکی حملے کی مخالفت کرتی ہے:سروے
توقع ہے کہ امریکی تیل کمپنیوں کے سربراہ جمعرات کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے تاکہ وینزویلا میں سرمایہ کاری کے مواقع اور خام تیل کی برآمدات پر بات چیت کی جا سکے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس اور وینزویلا کے حکام نے اس نئی پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
یہ اقدام امریکا کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور عالمی تیل مارکیٹ میں استحکام لانے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، اور اس سے دونوں ممالک کے معاشی و تجارتی تعلقات میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
