روسی سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین اور سابق صدر دمتری میدویدیف نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “امن کے علمبردار ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی حقیقت دکھا دی۔”
میڈویڈیف کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات محض ایک پردہ تھے اور کسی کو بھی یہ شبہ نہیں تھا کہ درحقیقت سنجیدہ مذاکرات کی نیت موجود نہیں تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ فوجی کارروائی نے امریکا کے اصل عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا کی تاریخ صرف 249 سال پر محیط ہے، جبکہ فارسی سلطنت کی بنیاد ڈھائی ہزار سال قبل رکھی گئی تھی۔ “دیکھتے ہیں 100 سال بعد کیا ہوتا ہے،” انہوں نے اپنے بیان میں کہا۔
ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کا پہلا بیان
روس کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی انتہائی سطح پر پہنچ چکی ہے اور عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
