ایران کے عدالتی سربراہ غلام حسین محسنی نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران میں جاری احتجاج اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں قانون شکنی اور فساد پھیلانے والوں کو اپنے اقدامات کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق غلام حسین محسنی کا کہنا تھا کہ ایران کو درپیش موجودہ حالات کے باوجود عدلیہ مکمل طور پر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاستی ادارے کسی بھی دباؤ یا بیرونی مداخلت کو خاطر میں لائے بغیر آئینی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
ایرانی عدالتی سربراہ نے بتایا کہ انہوں نے اٹارنی جنرل اور سرکاری وکلاء کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ احتجاج اور اس سے جڑے معاملات کو ضابطے اور قانونی طریقہ کار کے مطابق نمٹایا جائے۔ ان کے مطابق کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حمایت کے اعلانات کے بعد بعض گمراہ عناصر کو سڑکوں پر لایا گیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوئی۔ حکومت کے مطابق ان عناصر کا مقصد عوامی بے چینی کو ہوا دینا اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج 40 شہروں تک پھیل گیا
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی کے بعد تاجروں نے کاروبار بند کر کے احتجاج شروع کیا تھا۔ عالمی میڈیا کے مطابق مہنگائی کے خلاف یہ احتجاج نویں روز میں داخل ہو چکے ہیں اور تہران، شیراز، فارس، شمالی خراسان، سمنان اور ایلام سمیت مختلف علاقوں میں جاری ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ مظاہرے ایران کے 31 میں سے 26 صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اب تک ایک سیکیورٹی اہلکار اور 19 شہری ہلاک، 51 افراد زخمی جبکہ ایک ہزار کے قریب افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
