ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے دفاعی اقدامات کو مزید مضبوط کرتے ہوئے قطر میں لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔ اس پیش رفت کو خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، جہاں عالمی طاقتیں کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہی ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی فضائیہ نے قطر میں چار جدید ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کیے ہیں۔ اس حوالے سے برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ طیارے مکمل طور پر دفاعی مقاصد کے لیے بھیجے گئے ہیں اور ان کا مقصد خطے میں موجود برطانوی مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ وزارتِ دفاع نے واضح کیا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد کسی جارحانہ کارروائی کا حصہ بننا نہیں بلکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کرنا ہے۔
مبصرین کے مطابق خلیجی خطہ اس وقت شدید سیاسی اور عسکری دباؤ کی زد میں ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک اپنی فوجی موجودگی کو ازسرِنو ترتیب دے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے بھی سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کی بڑی فوجی فورس ایران کی جانب رواں دواں ہے اور متعدد جنگی جہاز ایران کے قریب تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات احتیاطی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔
امریکا کا ایران کے گرد فوجی حصار مضبوط، بحری بیڑے اور فضائی طاقت خطے کی طرف روانہ
تاہم اس سے قبل صدر ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا فی الحال ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق اگر ایران نے دوبارہ اپنا جوہری پروگرام شروع کرنے کی کوشش کی تو امریکا اس کا بھرپور جواب دے گا۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ براہِ راست تصادم سے گریز کی بات کی جا رہی ہے، مگر عسکری دباؤ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے قطر میں لڑاکا طیاروں کی تعیناتی خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں ایران امریکا کشیدگی کس رخ اختیار کرتی ہے، اس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
