ایران کی اہم اور اسٹریٹجک بندرگاہ بندر عباس میں ایک زور دار دھماکا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دھماکا بندر عباس کے جنوبی حصے میں واقع ایک رہائشی عمارت میں ہوا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا ہفتے کی دوپہر کے وقت پیش آیا، جس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ رہائشی عمارت کی متعدد منزلیں بری طرح متاثر ہو گئیں۔ دھماکے کے باعث عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے، دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں جبکہ سڑک پر کھڑی ایک گاڑی اچھل کر دوسری جانب جا گری۔
ایرانی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دھماکے کی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جن میں متاثرہ عمارت، ملبہ اور دھماکے کے بعد کا منظر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز میں دھماکے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جس نے قریبی آبادی کو بھی لرزا کر رکھ دیا۔
ایرانی حکام اور میڈیا نے فوری طور پر اس تاثر کی تردید کی ہے کہ دھماکے میں پاسدارانِ انقلاب کے کسی کمانڈر یا اعلیٰ عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور اسباب کا تعین کیا جا رہا ہے اور تاحال کسی جانی نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران کی ایٹمی تنصیب پر ممکنہ حملے ،روس نے عملے کے انخلا کا عندیہ دے دیا
دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور ریسکیو کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ زخمیوں کی ممکنہ تعداد اور نقصانات سے متعلق مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ بندر عباس ایران کی سب سے اہم بندرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج فارس میں تجارتی و دفاعی لحاظ سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے اس واقعے نے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد باضابطہ بیان جاری کیا جائے گا۔
