بھارت میں مدھیہ پردیش کی ضلعی عدالت نے ایک خاتون کو جائیداد کے حصول کے لیے پانچ شادیاں کرنے پر سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ خاتون 2 سال قید بامشقت کے ساتھ 2,000 روپے جرمانہ بھی ادا کرے گی۔
رپورٹس کے مطابق، متاثرہ شوہر کی شکایت پر تھانہ شاہ جہاں آباد میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر ضلعی اور سیشن جج میگھا اگروال نے یہ حکم جاری کیا۔ درخواست گزار نے عدالت میں بیان دیا کہ حسینہ نامی خاتون نے ان کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے پانچویں شادی کی جبکہ وہ پہلے ہی چار شادیاں کر چکی تھی، اور اس بات کو اپنے پچھلے شوہروں سے چھپائے رکھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ خاتون عموماً غریب اور تنہا مردوں کو اپنا نشانہ بناتی تھی۔ شادی کے بعد وہ اپنے شوہروں پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرتی اور ان کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ عدالت نے اسے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا جرم قرار دیا اور کہا کہ پیش کیے گئے شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ دھوکہ دہی کا یہ نیٹ ورک خاتون کے خاندان کے دیگر افراد جیسے بیٹیاں اور داماد بھی شامل تھے۔
عدالت نے مختلف دفعات کے تحت فیصلہ صادر کرتے ہوئے واضح کیا کہ طلاق لیے بغیر متعدد شادیاں کرنا غیر قانونی ہے اور اس سے معاشرت میں اعتماد اور سماجی رشتوں کی بنیادیں متاثر ہوتی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد ماہرین اور مقامی لوگ اس قانون کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دھوکہ دہی کے واقعات پر قابو پایا جا سکے۔
یہ کیس بھارت میں ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ جائیداد اور ذاتی مفاد کے لیے قانونی حدود کو پامال کرنا سنگین جرم ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جاتی ہے۔
