پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے، جس کے تحت بنگلادیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کیا۔
شاہد آفریدی نے یہ بیان بنگلادیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے نکالے جانے کے بعد دیا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں آفریدی نے کہا کہ بھارت ایک بار پھر کرکٹ میں سیاست لے آیا ہے، جو عالمی کرکٹ کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔ ان کے مطابق بنگلادیش کا ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ بالکل درست اور ضروری تھا۔
سابق کپتان نے مزید کہا کہ بھارت پیسے کی طاقت سے کرکٹ پر اثر ڈال رہا ہے، اور اب دیگر ممالک کو بھی جرات مندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ آفریدی نے زور دیا کہ آئی سی سی صرف انڈین کرکٹ کونسل نہیں بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہے، اور کرکٹ کو سیاست سے آزاد رکھنے کے لیے اسے مداخلت کرنی ہوگی اور بھارت کی جانب جھکاؤ ختم کرنا ہوگا۔
بنگلادیش نے آئی پی ایل کی ٹیلی کاسٹ پر غیرمعینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی
واضح رہے کہ مستفیض الرحمان کو مبینہ طور پر انتہا پسند عناصر کی دھمکیوں کے بعد آئی پی ایل ٹیم سے ریلیز کیا گیا، جس کے بعد بنگلادیش نے نہ صرف ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا بلکہ آئی پی ایل کی ٹیلی کاسٹ پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
بنگلادیشی مشیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ مستفیض کے معاملے نے جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور بھارت کو جواب دینا لازم تھا، جس کی وجہ سے بنگلادیش نے سخت موقف اپنایا۔
