شاہد آفریدی کا مستقل طور پر اسلام آباد منتقل ہونے کا اعلان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ بوم بوم آفریدی کی اس منتقلی نے شائقینِ کرکٹ اور عوامی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے کراچی میں مقیم تھے اور شہر سے ان کی گہری وابستگی سمجھی جاتی تھی۔

latest urdu news

اسلام آباد میں اپنی نئی رہائش گاہ پر روزنامہ جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے بتایا کہ انہوں نے چند ذاتی وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں بعض فیصلے حالات اور مستقبل کی ترجیحات کو دیکھتے ہوئے کرنا پڑتے ہیں، اور ان کے نزدیک اس وقت اسلام آباد منتقل ہونا ایک بہتر انتخاب تھا۔

گفتگو کے دوران شاہد آفریدی نے ملکی سیاست اور نظامِ حکومت پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، جمہوری عمل کا استحکام اور ریاستی اداروں میں آئینی مدت کی تکمیل انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جب ادارے اپنی مقررہ مدت پوری کرتے ہیں تو پالیسیوں میں استحکام آتا ہے، جس کے مثبت اثرات براہِ راست عوام تک پہنچتے ہیں۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا اور مستحکم ملک دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن اس خواب کی تعبیر کے لیے سب سے بنیادی عنصر تسلسل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت، عدلیہ اور دیگر آئینی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں آئین کے مطابق ادا کرنی چاہئیں تاکہ ملک میں اعتماد اور استحکام پیدا ہو۔

سیاست میں شمولیت سے متعلق سوال پر شاہد آفریدی نے واضح کیا کہ فی الحال ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پاکستان کرکٹ نے انہیں دنیا بھر میں عزت، پہچان اور مقام دیا ہے، اور اب ان کی خواہش ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت ملک اور کرکٹ کو واپس لوٹا سکیں، تاہم سیاست میں قدم رکھنے کا انہوں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

بھارت نے کرکٹ کو سیاست کی نذر کیا، بنگلادیش کا فیصلہ بالکل درست ہے:شاہد آفریدی

شاہد آفریدی نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنی چاہیے، جبکہ چیف جسٹس، آرمی چیف اور دیگر اہم آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کو بھی اپنی مدت پوری کرنے دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق یہی طرزِ عمل ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کی بنیاد بنتا ہے۔

حکومتی عہدوں کی پیشکش سے متعلق بات کرتے ہوئے سابق کپتان نے انکشاف کیا کہ ماضی میں انہیں اہم سرکاری عہدوں کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے ہمیشہ ایسی ذمہ داریوں سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محض رسمی یا نمائشی عہدے ان کے لیے کشش نہیں رکھتے، وہ صرف اسی صورت میں کوئی کردار ادا کریں گے جب واقعی ملک کے لیے کچھ کرنے کا موقع ملے۔

شاہد آفریدی کی اسلام آباد منتقلی کو ان کے زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے، جہاں وہ کرکٹ، فلاحی سرگرمیوں اور قومی معاملات پر اپنی آواز بدستور بلند کرتے رہیں گے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter