کوئٹہ،بلوچستان حکومت نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے قائد سردار اختر مینگل کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کی کوشش کی تو ان کو حراست میں لے لیا جائے گا۔
حکومتی ترجمان شاہد رند کے مطابق بی این پی کے احتجاجی مارچ پر انتظامیہ کی جانب سے صبح 6 بجے سردار اختر مینگل کو ان کی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے ایم پی او (مینٹیننس آف پبلک آرڈر) کے تحت مطلع کر دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے گرفتاری دینے سے انکار کر دیا۔
شاہد رند نے واضح کیا کہ اگر اختر مینگل نے کوئٹہ کی طرف پیش قدمی کی تو قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا جائے گا۔
ترجمان نے بی این پی کی جانب سے قومی شاہراہوں کو بند کرنے کی کال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور حکومت نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ قومی شاہرائیں ہر صورت کھلی رہیں گی۔
واضح رہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت 4یا اس سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے، جلسے جلوس اور دھرنوں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ان کا مقصد تھیٹر سے غیر مناسب مواد کا خاتمہ اور اسے ایک مثبت و خاندانی تفریح کا ذریعہ بنانا ہے، اس مشن میں کسی قسم کی دھمکیوں یا دباؤ کی پروا نہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ تھیٹر کا ماحول ایسا ہونا چاہیے جہاں خاندان بھر اعتماد کے ساتھ ڈرامے دیکھنے آئیں۔ اسی لیے تھیٹر مالکان اور فنکاروں کو بہتری کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا تھا۔
