پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اب دیکھنا ہے وہ "مائنز اینڈ منرلز بل” منظور کراتے ہیں یا اپنی وزارت اعلیٰ کی کرسی بچاتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کے تمام محکمے اور وزرا کرپشن میں ملوث ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے رہنما خود ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے اور اس پر نیب کی خاموشی معنی خیز ہے۔
گورنر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی این آر او کے لیے لوگوں کے پاؤں پکڑ رہی ہے، اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اسلام آباد سے ملنے والے احکامات "اچھے بچوں” کی طرح بجا لا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عوامی فنڈز جلسے جلوسوں پر ضائع کیے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت کرم میں محض 25 کلومیٹر سڑک نہیں کھول سکتی، مگر اسلام آباد پر چڑھائی کے دعوے کر رہی ہے۔
گورنر کنڈی نے وزیراعظم کو ایک بار پھر پشاور آنے کی دعوت دی اور وزیراعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ ضد اور ہٹ دھرمی ترک کر کے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔
